تُو ہر قدم پہ سب کو نصیحت ابھی نہ کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتُو ہر قدم پہ سب کو نصیحت ابھی نہ کر
کہتی رہی میں اُس سے بغاوت ابھی نہ کر
گُلشن میں تتلیوں کی امانت ہے ہر شجر
پھولوں کی ٹہنیوں سے شرارت ابھی نہ کر
اس رات کی ہی صبح کا ہم کو یقیں نہیں
اتنی بھی لاجواب طبیعت ابھی نہ کر
اب سامنے سے زیست کی گاڑی گزر گئی
کس نے کہا تھا رب کی عبادت ابھی نہ کر
دیکھا ہے سب نے چاند بھی زلفوں کے سحر میں
کچھ وقت چاندنی سے شرارت ابھی نہ کر
اب بھی سکوتِ بَحر سے گزرے گی زندگی
افکارِ نَو پہ وشمہ قناعت ابھی نہ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






