تھما کے پھول نے خوشبو ہوا کے ہاتھوں میں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaتھما کے پھول نے خوشبو ہوا کے ہاتھوں میں
یہ دل ہے رکھنا کہا دلربا کے ہاتھوں میں
اگر قبول وہ کر لے تو شکریہ کرنا
ہو منفی لہجہ لے آنا اٹھا کے ہاتھوں میں
کہا بھلانے کی کوشش ضرور تم کرنا
ہمارے ماضی کی یادیں تھما کے ہاتھوں میں
ہے سانس چلتی مگر دے گیا وہ موت ہمیں
کسی وہ غیر کی مہندی لگا کے ہاتھوں میں
ہمیں خیال ہے اس کا جہاں میں عزت ہے
یہ زندگی تو ہے ورنہ خدا کے ہاتھوں میں
خمار کتنا ہے اس کو ہماری چاہت کا
مجھے بتائے وہ گیسو گھما کے ہاتھوں میں
تھی اس نے خاک اٹھائی ہوئی نا جانے کیوں
خطوط پیار کے سارے جلا کے ہاتھوں میں
یہ جعفری کی نصیحت ہے باندھ لو پلے
مرے گا راز جو دے گا فضا کے ہاتھوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






