تھوڑا ہٹ کے ہے

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Oman

میرا محبوب دوسروں سے تھوڑا ہٹ کے ہے
پیار کرتا تو ہے لیکن اس کا پیار تھوڑا ہٹ کے ہے

میرے خوابوں میں ہر دم اسی کا بسیرا ہے
خواب میں آتے ہیں لوگ اور بھی پر اس کا آنا تھوڑا ہٹ کے ہے

بے وجہ کبھی کھلنے لگتا ہے اس کا پیارا سا چہرہ
ہنستے تو اور بھی ہیں پر اس کا ہنسنا تھوڑا ہٹ کے ہے

کسی کو چاہنا کہاں کسی کے بس میں ہوتا ہے
چاہت احساس ہی ایسا ہے لیکن اس کا چاہنا تھوڑا ہٹ کے ہے

اس کے ساتھ سے موسم بہت حسین ہو جاتا ہے
ملتے ہیں لوگ اکثر لیکن اس کا ملنا تھوڑا ہٹ کے ہے

وہ کہاں ہے ویسا اب جو کبھی تھا پہلے
بدلتے اور بھی ہیں لیکن اس کا بدلنا تھوڑا ہٹ کے ہے

نہیں جانتا اسے کیا اچھا لگتا ہے
پاگل نہیں ہے وہ لیکن اس کا سوچنا تھوڑا ہٹ کے ہے

پھول سبھی کا دل لبھاتے ہیں اسے کانٹے اچھے لگتے ہیں
وہ کہاں اوروں جیسا ہے اس کا پسند کرنا تھوڑا ہٹ کے ہے

بے پناہ چاہتا ہوں اسے اب کیسے بتاوَں
چاہتا وہ بھی ہے لیکن اس کا اظہار کرنا تھوڑا ہٹ کے ہے

Rate it:
Views: 749
22 Oct, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL