تیرا فسانہ حقیقت میں ڈھل بھی سکتا ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنگاہ ناز سے پروانہ جل بھی سکتا ہے
تیرا فسانہ حقیقت میں ڈھل بھی سکتا ہے
قدم اٹھاؤ تو رکھنا خیال اپنا بھی
دل خاموش جنوں میں مچل بھی سکتا ہے
وفور شوق میں لغزش سے درگزر کرنا
ہجر ہے ۔ خواب کا نقشہ بدل بھی سکتا ہے
اے چشم یار جسے تم گرانا چاہتی ہو
یہ اشک وقت کے دھارے میں چل بھی سکتا ہے
بپا کیا ہے جو تیری ہی آرزوؤں نے
یہ حشر آپکے جلووں سے ٹل بھی سکتا ہے
اے ذوق حرف کیوں نہ اور اہتمام کریں
لباس شعر میں جذبہ پھسل بھی سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






