تیری محفل میں جناب آگئے
Poet: UA By: UA, Lahoreخود چل کے تیری محفل میں جناب آگئے
ہم سوغات وفا لے کے بے حساب آگئے
ہم نے بے حجاب نام پایا اس طرح
ہم تمہارے در پہ جو بے نقاب آگئے
ان کو سلام بھیج کر بدنام یوں ہوئے
جب روبرو لئے وہ خود جواب آگئے
ہم سے تکرار نہ کرو تو اچھا ہے
تم ہی کہو گے کیسے لاجواب آگئے
اس کوری زندگی میں کچھ اس طرح آئے
وہ بن کے محبت بھری کتاب آگئے
جنہیں دل بھول نہ پایا انہی کو یاد کرتی ہیں
آنکھوں میں بھی کیسے عجب خواب آگئے
وہ شجر جو پت جھڑ میں سوکھ چلے تھے
پھر ہو کے بہاروں میں پر شباب آگئے
دشت و بیاباں جنگل و کہسار وادیاں
اک جستجو میں صحرا و سراب آگئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







