میری نگاہوں کے آگے
Poet: UA By: UA, Lahoreتیرا سراپا رہے میری نگاہوں کے آگے
جاگ کر سوتے رہے یا نیند سے جاگے
کوئی انداز کوئی حسن کوئی جادو سہی
مگر نہ ٹھہر سکا تیرے نظر کے آگے
اگر وہ تو نہیں کوئی اور تیرے جیسا تھا
کیوں اسے دیکھ کر سوئے ارماں جاگے
وہ راستہ بدل کے جانے کس گلی میں گیا
ہمیں نہ مل سکا ہم پیچھے تو بہت بھاگے
تم سے بچھڑ کے سب سے جدا ہونے لگے
تمہارے بن کسی نگر میں جی نہیں لاگے
اب میری نگاہوں میں کوئی اور نہیں جچتا
وہ جب سے آگئے میری نگاہوں کے آگے
کوئی لاکھ چاہے توڑ نہیں پائے گا
نازک نہیں ہوتے محبت کے دھاگے
تا حد نظر ریت کا سمندر پھیلا ہے
سیراب نہ ہوئے ملے سراب ہی آگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







