تیری چاہت میری معصومیت پہ چھائے جاتی ہے
Poet: Maria ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabadتیری چاہت میری معصومیت پہ چھائے جاتی ہے
طبیعت ان دکھے طوفان سے گھبرائے جاتی ہے
میں تیری آرزو کے شہر میں اب بھی پریشاں ہوں
جنوں کی انتہا اک آگ سی دھکائے جاتی ہے
تمہارا نام کیا جاگا تمنا کے جزیروں میں
میری ہر اک ادا خود مجھ سے بھی شرمائے جاتی ہے
میری جاں جب سے ڈوبی ہوں میں اس خاموش الفت میں
میری تو روح بھی ہر بزم سے اکتائے جاتی ہے
مجھے اب بھی محبت کی وہ بانہیں یاد آتی ہیں
تبھی تو ہر گھڑی وہ جنتیں دکھلائے جاتی ہے
فقط سوچیں نہیں ہمدم فقط نیندیں نہیں ہمدم
تمہاری ذات میری ہر گھڑی پہ چھائے جاتی ہے
میں جب بھی سوچنے لگتی تیرے پیار کو جانی
محبت کی تڑپ اک آئینہ دکھلائے جاتی ہے
یہ موسم کس قدر رمان پرور ہے مگر دوری
یہ دوری وصل کی خواہش کے آڑے آئے جاتی ہے
تمہارے لفظ تیری ماریہ کو یوں لبھاتے ہیں
کہ اک انجان سی خواہش مجھے تڑپائے جاتی ہے
یہ دوری کھائے جاتی ہے غضب سا ڈھائے جاتی ہے
مگر احساس کی نرمی مجھے سہلائے جاتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






