تیری یادیں میرا سایہ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: افضل خان, لاہورتیری یادیں میرا سایہ
ساۓ سے میں بھاگ نہ پایا
مجھ کو میری فکر نہیں ہے
میرے اندر کون سمایا
رب جانے وہ بچھڑا کیوں کر
جس کو میں نے مِیت بنایا
روتے ساری عمر کٹی ہے
پر نہ آنکھ سے آنسو آیا
اپنا جیون ایک کھلونا
جس نے چاہا جی بہلایا
ان پر کوئی آنچ نہ آئی
ہم نے اپنا آپ جلایا
ان لوگوں نے نیند اڑائی
جن لوگوں نے خواب دکھایا
مجھ سے ناتا توڑ کے اپنا
نہ جانے وہ کیوں پچھتایا
یاد کیا پھر اس نے مجھ کو
وقت کوئی جو مشکل آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






