نہ بھلا سکو میری یاد کو کہ تڑپ تڑپ کے رہ جاؤ گے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiنہ بھلا سکو میری یاد کو کہ تڑپ تڑپ کے رہ جاؤ گے
یہ کہاں ملے در بے بہا اسے خاک میں جو ملاؤ گے
وہ جو عہد و پیماں ہمارے تھے وہ نباہ کے کبھی وعدے تھے
وہ قرار تھا جو ہمارا ہی اسے تم بھلا نہ ہی پاؤ گے
یہ زمانہ روٹھ بھی جائے گر کبھی چَرْخ آنکھیں دکھائے گر
یہ جو قید و شرط ہماری ہے نہ کمی تو اس میں ہی پاؤ گے
یہ جو ظلم کی تو گھٹا اٹھی یہ جو نفرتوں کی ہوا چلی
یہ قدم بھی ڈگمگائے کبھی تو جہاں میں کچھ نہ کر پاؤ گے
کوئی رحمتوں کی ہے آس میں کوئی برکتوں کی ہے آس میں
جو نہ زندگی میں ہی آس ہو تو پَژْمُرْدَگی سے مات کھاؤ گے
جو سَراب کو تو سمجھ سکو جو حَباب کو بھی سمجھ سکو
یہی گُن ہو زندگی میں اثر تو کبھی نہ چوٹ ہی کھاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






