تیرے جاتے ہی لہو رونے لگا پھر آصف

Poet: عارفین آصف ملک By: Arfeen Asif Malik, Rajsnpur

دل بہلنے کا بہانہ تو بناتی جاؤ
جاتے جاتے ذرا ہنس کر ہی دکھاتی جاؤ

صرف اک بات کہ جس بات سے ہر بات گٸی
ہات کی بات ہے یہ بات بتاتی جاؤ

اور سے اور جگہ دل کو نشانہ کر کے
کچھ نۓ زخم پرانوں میں ملاتی جاؤ

أدمی نیند میں رہ کر بھی سفر کرتا ہے
میرے پہلو میں رہو ، ساتھ نبھاتی جاؤ

میں نے اک عمر نبھایا ہے کسی ہجر کا درد
تم بھی کچھ روز کا احسان چڑھاتی جاؤ

کاسہ ٕ جاں میں نٕۓ ہجر کا سکّہ دھر کر
مہربانوں میں مرے نام لکھاتی جاؤ

جس طرح دھوپ اڑاتی ہے گلابوں سے نکھار
ہاتھ اپنا مرے ہاتھوں سے چھڑاتی جاؤ

دھیرے دھیرے مری أنکھوں سے چُرا لو نیندیں
دھیرے دھیرے مرے خوابوں کو سجاتی جاؤ

تمھیں جانا ہے بحر حال چلی جاو مگر
اگلے دن رات کا نقشہ تو دکھاتی جاؤ

تیرے جاتے ہی لہو رونے لگا پھر آصف
سچ تو کہتا تھا کہ پاگل کو سلاتی جاؤ

Rate it:
Views: 523
13 Mar, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL