تیرے ساتھ کا سبب ہے

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, District Gujranwala, Currently in Oman

موسم کیسا خوشگوار ہے آج تیرے ساتھ کا سبب ہے
جینے کی امنگ پھرسے لوٹ آئ تیرے ساتھ کا سبب ہے
میرے اردگرد تھی پھیلی تپش دل بھی تھا بے چین
ساون کی گھٹا امنڈ آئ تیرے ساتھ کا سبب ہے

زندگی گذاررہے تھے ہم انجانی ڈگر پر
دل میں نہ کوئی خاہش تھی نہ سہانے سپنے پاس
سانسیں تھیں ٹھہریں دل بھی تھا بوجھل
دل میں ہیں اب چاہت کے سلسلے تیرے ساتھ کا سبب ہے

جینا مارنا ساتھ اب چھوڑکر کبھی مت جانا
دھوپ سے سایے میں لا کر اب چھوڑ کر کبی مت جانا
تیرے ساتھ پل گزارنے کی کچھ عادت سی پڑ گیی ہے
زندگی ہو گیی ہے سوہانی تیرے ساتھ کا سبب ہے

ساتھ اس طرح دینا کے کبھی بچھڑنا نہ پڑے
میرے دل پر نقش ہے توکبھی مٹانا نہ پڑے
تجھ سے بچھڑنے کا سوچ کر میں کانپ سا جاتا ہوں
کتنی بڑھ گی ہے تڑپ تیرے ساتھ کا سبب ہے
 

Rate it:
Views: 587
24 Jul, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL