تیرے سبھی تصور دل کے آغوش میں پڑے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتیرے سبھی تصور دل کے آغوش میں پڑے ہیں
جو ستاتے تھے خیال وہ خاموش میں پڑے ہیں
شاید تیری ادراکیت میں کمی سی آگئی ہے
یا میرے متفکر سبھی مدھوش میں پڑے ہیں
کچھ تو ہے کہ دھڑکنیں ماروائے احساس بن گئیں
آج بھی سبھی مزاج جیسے افسوس میں پڑے ہیں
وہ منزلوں کے راستے زمانے نے بھلا دیئے
اب قدم تو دنیوی روش میں پڑے ہیں
ان زخموں کی رفوگری کچھ غیروں نے جو کی تھی
کہ چبھتے ہاتھ کے کانٹے ابھی ہوش میں پڑے ہیں
میں محبت کی سنگدلی سے انحراف نہیں کرتا
پھر میرے درد کیوں یہ دوش میں پڑے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






