کئی دیوانوں کے لابدی فسانے پہلے بھی سنے تھے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکئی دیوانوں کے لابدی فسانے پہلے بھی سنے تھے
عشق سے نہ انحراف ہوا زمانے پہلے بھی سنے تھے
اُن کے چہرے پر آلائش بڑی دیرینہ پانے سے
ایک تسلسل ٹھہر گیا بہانے پہلے بھی سنے تھے
ان کو کہا بھی تھا کہ سنسان ہیں گلیاں نہ جایا کرو
دل کھونے والوں کے ھنگامے پہلے بھی سنے تھے
یہاں خلاف دستور بارسوُخی تو کہیں بھی نہیں ملتی
جرم پہ پردہ ڈل گیا! جرُمانے پہلے بھی سنے تھے
ہم اپنی حدوں کے لطف میں ناقص ہی رہہ گئے تھے
بس منزلوں کی تھی نزاکت ٹھکانے پہلے بھی سنے تھے
یہاں محبت کی شائستگی پر بھی قصیدہ بنا دیتے ہیں لوگ
کس نے کس کیلئے گائے کچھ ترانے پہلے بھی سنے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






