مجھے کہتے ہیں محبت

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

پرندہ ، ہوتی تو اڑ کے آ جاتی
پر ، ہوتی تو گر کے آ جاتی

لکیر ، ہوتی تو ہاتھ میں آ جاتی
تعیبر ، ہوتی تو خواب میں آ جاتی

خواب ، ہوتی تو نیند میں آ جاتی
خیال ، ہوتی تو سوچ میں آ جاتی

ہوا ، ہوتی تو جھوم کے آ جاتی
بجلی ، ہوتی تو گرج کے آ جاتی

ستارے ، ہوتی تو جگمگا کے آ جاتی
چاند ، ہوتی تو شرما کے آ جاتی

خشبوں ، ہوتی تو بکھر کے آ جاتی
موج ، ہوتی تو لہرا کے آ جاتی

چھاؤں ، ہوتی تو دھوپ میں آ جاتی
بارش ، ہوتی تو برسات میں آ جاتی

تمنا ، ہوتی تو خواہش میں آ جاتی
پانی ، ہوتی تو پیاس میں آ جاتی

شمع ، ہوتی تو امید میں آ جاتی
عکس ، ہوتی تو آئینے میں آ جاتی

دولت ، ہوتی تو پیسوں میں آ جاتی
چیز ، ہوتی تو قیمت میں آ جاتی

خاموشی ، ہوتی تو تنہائی میں آ جاتی
ادب ، ہوتی تو احترام میں آ جاتی

مذہب ، ہوتی تو ایمان میں آ جاتی
دھڑکن ، ہوتی تو دل میں آ جاتی

دل ، ہوتی تو جسم میں آ جاتی
موت ، ہوتی تو زندگی میں آ جاتی

پر میں تو ، ان دیکھا احساس ہوں
میں تو ہر روح کے ساتھ ہوں

مجھے کہتے ہیں محبت
اس لیے تو میں سب سے خاص ہوں

Rate it:
Views: 674
31 May, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL