تیرے پیار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiتیرے پیار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
تیرے اظہار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
ہوگیا تھا ہم سے پیار ایک دن
تیرے اقرار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
چرچا ہے تیرے حسن کا سارے شہر میں
تیرے دیدار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
ہوتا ہے جب ذکرتیرے لب و رخسار کا
تیری آنکھوں کے خمار کو لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
وصل کی رات گزر گئی ہے تیرے بغیرہی
اس انتظار کا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






