ھاتھ میں تیرا ھاتھ نہ ہو کب اچھا لگتا ھے
Poet: Tanvir Sheraz By: Tanvir Sheraz, (Khurrianwala) Faisalabadہاتھ میں تیرا ہاتھ نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
تم سے دل کی بات نھ ھو کب اچھا لگتا ھے
شاعر کی حیثیت سے کسی بھی محفل میں بیٹھوں
اس میں تیری ذات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
ھر محفل میں ھر بازی میں جیتوں تیری چاھت میں
تم سے جب تک مات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
چاند ستاروں سے اور سورج دھرتی سے مل لے
تیرا میرا ساتھ نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
ھم تم مل کر نکلیں اور پھولوں کا ساتھ بھی ھو
باغوں میں برسات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






