جاری اشکوں سے ہو بیاں دردِ دل تو

Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachi

بسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم

مدینہ میں عبادت کا مزہ ہی کچھ اور ہے
درِ نبی کی زیارت کا مزہ ہی کچھ اور ہے

یوں تو جاری ہے ہر جا رحمتِ باری پر
درِ نبیؐ کی برکات کا مزہ ہی کچھ اور ہے

اصنافِ سخن سے سجی ہیں کتابیں پر
شاہ اممؐ کی نعت کا مزہ ہی کچھ اور ہے

آبِ عشق نبیؐ سے نصیب ہو وضو الفاظ کو
تو تحریر گلِ نعت کا مزہ ہی کچھ اور ہے

انبیاء کو تھیں حاصل خوبیاں بہت، پر
حضورؐ کی صفات کا مزہ ہی کچھ اور ہے

محبوب ہیں پیامبر سب ربِ عالم کو،پر
طٰہٰؐ کے درجات کا مزہ ہی کچھ اور ہے

جاری اشکوں سے ہو بیاں دردِ دل تو
نبیؐ سے مناجات کا مزہ ہی کچھ اور ہے

درِ خاکِ نبیؐ پر جھکی ہو جبینِ خاکی تو
برساتِ رحمت کا مزہ ہی کچھ اور ہے

شفاعتِ شافع محشر ہو نصیب تو ،حضوری
نارِ جہنم سے نجات کا مزہ ہی کچھ اور ہے

صلی اللہ علیہ وسلم
 

Rate it:
Views: 436
08 Jul, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL