جاناں
Poet: Hamza Butt By: Hamza, HAZRO,GHOURGHUSHTIچا ہتوں کا رکھتے ہو تم کتنا حساب جاناں
ہم نے تو تمہیں چاہا ہے بے حساب جاناں
توُ ساتھ ہو تو لگیں حزأیں جیسے ہوں بہاریں
اُلفت کی چاہ میں ہم نے سجائے کتنے خواب جاناں
سنبھال کے رکھنا ہو گا ہماری و فا کے موتی کو
بکھر جائے نہ شبِِ ہجر میں یہ شباب جاناں
شام سے سحر ہوئی سنتے سنتے کھو گئے
کوئی ہے نہیں تیری باتوں کا جواب جاناں
گِلا کرتے تجھ سے تیری بے وفائی کا تو کسطرح
تُو نے مارے پتھر تو ہم نے جانے وہ گلاب جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






