صبا سحر کی تلاش میں ہے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillاسی سحر کی کہ جس کا دامن
نظر میں خوشیاں بکھیرتا ہو
اسی سحر کی کہ جس کا آنچل
کنار ہستی کو چھیڑتا ہو
اسی سحر کی کہ جس کے دل میں
حسین لمحوں کی دھڑکنیں ہوں
اسی سحر کی کہ جس میں کھلتی
کسی کی یادوں کی کونپلیں ہوں
اسی سحر کی کہ جس میں کوئی
محبتوں کا رقیب نہ ہو
کہ جس میں پنچھی چہک رہے ہوں
غموں کا موسم قریب نہ ہو
اسی نگر کی تلاش میں ہے
اسی شہر کی تلاش میں ہے
امید صبح دوام لے کر
صبا سحر کی تلاش میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






