جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.A

جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

میری کشتی کو پار لگا دیتے
چاہے سمندر میں بھا دیتے
مجھے سوالی پر چڑھا دیتے
چاہے اپنے سینے سے لگا دیتے

جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

میرے خوابوں کو دفنا دیتے
چاہے تعبیروں میں سما دیتے
میری آس و ُامید کو توڑ کر
چاہے میرا محل گرا دیتے

جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

میرے جذبوں کو بچا دیتے
چاہے دھواں بنا کر ُاڑا دیتے
میری ذات کو مکمل جہاں دیتے
چاہے حروف کی طرح مٹا دیتے

جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

مجھے مستقبل کا اسرا دیتے
چاہے ماضی کی چھپا دیتے
میرے ارمانوں کو ہوا دیتے
چاہے ان پر تیزاب گرا دیتے

جاناں ! تمہیں حق دیا تھا

میری محبت کو سزا دیتے
چاہے پلکوں پر بٹھا دیتے
مجھے دنیا کے سامنے ُبرا بنا دیتے
چاہے عزت سے ہمنشیں بنا دیتے

جاناں ! تمہیں حق دیا تھ

Rate it:
Views: 622
22 Aug, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL