جانےاِسے کیا کہئے جب سے اُسے دیکھا ہے

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

جانے اِسے کیا کہئے ۔۔۔۔جب سے اُسے دیکھا ہے
یہ سانس بھی چلتی ہے۔۔۔ یہ دل بھی دھڑکتا ہے
وہ پھول ہے خُوشبُو ہے۔۔۔ شبنم ہے کہ شعلہ ہے
وہ سب سے انوکھا ہے۔۔۔۔وہ سب سے نرالا ہے
وہ جام ہے مینا ہے۔۔۔۔۔۔ ساغر ہے کہ شیشہ ہے
اُس کی تو نگاہوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔ میخانہ چھلکتا ہے
وہ نور کا پیکر ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نار سراپا ہے
وہ روشنیءِ جاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے تو یہ جانا ہے
وہ چاند ہے تارہ ہے ۔۔۔۔۔۔موتی ہے کہ ہیرہ ہے
کوئی دل سے میرے پوچھے ۔۔۔۔۔وہ کتنا پیارا ہے
جب سے میں دیکھی ہے۔۔ لالی تیرے ہونٹوں کی
اِک آگ ہے سینے میں ۔۔۔۔شعلہ سا بڑھکتا ہے
جب سے میں نے دیکھی ہیں ۔وہ جھیل نما آنکھیں
یہ چشمِ رواں میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہتا ہوا دریا ہے
اُس زلفِ پریشاں کو ۔۔۔۔۔۔۔غارتِ گر اِیماں کو
اے شیخ جی سچ کہیُو۔۔۔۔۔۔کیا آپ نے دیکھا ہے
ہم دونوں میں اے جاناں۔۔۔ بس فرق ہے اِتنا سا
میں عشق کا نالہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پیار کا نغمہ ہے
اِن ہجر کی راتوں میں۔۔ سب خواب تمہارے ہیں
یہ رُخ کی تمازت ہے ۔۔۔۔۔وہ زلف کا سایہ ہے
کچھ تیرگی زلفوں کی۔۔۔۔ کچھ روشنی آنکھوں کی
دن رات یہ اپنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اپنی یہی دنیا ہے
لوگوں کی طرح تُو نے۔۔۔۔۔۔ اپنی ہی سنائی ہے
جو اُن پہ گزرتی ہے۔۔۔۔۔تُو نے کبھی پُوچھا ہے
کیسے تمہیں سمجھاؤں۔۔۔۔ کیا ہے یہ شکستِ دل
کلیوں کے چٹکنے کا ۔۔۔۔۔۔منظر کبھی دیکھا ہے
پلکوں پہ سجا لاؤ ۔۔۔۔۔۔۔گرنے تو نہ دو اِس کو
جو آنکھ پہ ہے اُس کی۔۔۔۔ قسمت کا ستارہ ہے
اے دوست یہ بتلاؤ۔۔۔۔۔کیا عشق کیا تُو نے
پھر عشق سے کیوں ہم کو۔۔۔۔ تُو اِتنا ڈراتا ہے
دنیاکے ہراِک دُکھ کا صرف عشق مداوا ہے
اِس کُفر کی ظُلمَت میں صرف عشق اُجالا ہے
 

Rate it:
Views: 523
25 Mar, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL