جاوید سے (١)

Poet: Allama Iqbal By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

غارت گرِ دیں ہے یہ زمانہ
ہے اس کی نہاد کافرانہ

دربارِ شہنشہی سے خوشتر
مردانِ خدا کا آستانہ

لیکن یہ دورِ ساحری ہے
انداز ہیں سب کے جادوانہ

سر چشمۂ زندگی ہوا خشک
باقی ہے کہاں مئے شبانہ

خالی ان سے ہوا دبستان
تھی جن کی نگاہ تازیانہ

جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ

جوہر میں ہو لا الہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

شاخِ گل پر چہک و لیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ

وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحرِ بے کرانہ

دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ

’’غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقت ہنر است و کار سازی ست

Rate it:
Views: 868
08 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL