جاوید سے (٢)

Poet: Allama Iqbal By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

سینے میں اگر نہ ہو دلِ گرم
رہ جاتی ہے زندگی میں خامی

نخچیر اگر ہو زیرک و چست
آتی نہیں کام کہنہ دامی

ہے آب حیات اسی جہاں میں
شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی

غیرت ہے طریقت حقیقی
غیرت سے ہے فقر کی غلامی

اے جان پدر نہیں ہے ممکن
شاہیں سے تدرو کی غلامی

نایاب نہیں متاعِ گفتار
صد انوری و ہزار جامی

ہے میری بساط کیا جہاں میں؟
بس ایک فغانِ زیر بامی

اک صدقِ مقال ہے کہ جس سے
میں چشم جہاں میں ہوں گرامی

اللہ کی دین ہے‘ جسے دے
میراث نہیں بلند نامی

اپنے نور نظر سے کیا خوب
فرماتے ہیں حضرت نظامی

’’جائے کہ بزرگ بایدت بود
فرزندیِ من نداردت سود

Rate it:
Views: 435
08 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL