جاگتی ہیں رات بھر آنکھیں
Poet: By: tanzeemakhtar, dohaجاگتی ہیں رات بھر آنکھیں
جانے کس کی ہیں منتظر آنکھیں
جانے بیٹھا ہے وہ کہاں چھپ کر
*ڈھونڈتی ہیں اِدھر اُدھر آنکھیں
بیٹھو کچھ پل تو سامنے میرے
آؤ دیکھوں میں تم کو بھر آنکھیں
بعد مدت کے دیکھ کر ان کو
اشکوں سے ہوئی ہیں تر آنکھیں
آ بھی جا اب تو سامنے میرے
تھک گئی تجھ کو ڈھونڈ کر آنکھیں
ایک بس تو ہی تو دِکھے ہم کو
دیکھتی ہیں جدھر جدھر آنکھیں
چھوڑ کر ان کو رہ نہ پائیں گے
ہے یہی اب ہمارا گھر آنکھیں
غمِ جدائی میں جانِ جاں اکثر
روتی رہتی ہیں رات بھر آنکھیں
راز کردے نہ یہ بیاں تنظیمؔ
دیکھو رکھنا سنبھال کر آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






