خبر کیا تھی یوں بھی ملاقات ہو گی
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreخبر کیا تھی یوں بھی ملاقات ہو گی
بن کر اجنبی ہماری پہچان ہو گی
پہروں جس سے بات ہوتی تھی
آج ذرا سی بات کے لیئے
الفاظ کی تلاش ہو گی
سامنے بیٹھ کر بھی وہ
مجھ سے دور ہو گا
دیکھنے کے لیئے بھی اس کو
کسی بہانے کی تلاش ہو گی
کیا معلوم تھا یوں بھی ہو گا
زندگی تھی کل تک جس کے ساتھ حسین تر
آج اس کے بغیر ویران ہو گی
تھا کبھی جس پر اختیار میرا
آج اس کی حق دار کوئی اور ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






