جب بھی ہم دل کی بات کرتے ہیں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanجب بھی ہم دل کی بات کرتے ہیں
ان کے تیور بہت بگڑتے ہیں
بھیگے موسم کا اک تقاضا ہے
وہ تقاضے کہاں سمجھتے ہیں
آشنا ہم کہاں زمانے سے
خود سے بھی اجنبی سے ملتے ہیں
اپنی طرز فغاں انوکھی ہے
رونے میں بھی ذرا سا ہنستے ہیں
کچھ بھی کہنے سے پہلے سوچ تو لو
لوگ پتھر اٹھائے پھرتے ہیں
دل میں الفت کے ہی نہیں ،غم تو
اور بھی بے شمار رہتے ہیں
کل جو لوگوں پہ ظلم ڈھاتے رہے
اپنے سائے سے آج ڈرتے ہیں
لوگ وہ ہی عظیم ہیں زاہد
جو سچائی کا ساتھ دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






