عشق کے سب مرحلے دشوار ہیں یہ سوچ لو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKعشق کے سب مرحلے دشوار ہیں یہ سوچ لو
ہر قدم پر اب نیۓ آزار ہیں یہ سوچ لو
مثلِ یوسف حسن تیرا ایک دِن بِک جاۓ گا
ہر طرف یاں عشق کے بازار ہیں یہ سوچ لو
مال و دولت کے پرستارو کہیں لٹ جاؤ گے!
میری دولت تو مرے افکار ہیں یہ سوچ لو
ریزہ ریزہ ہو گیٔ تعبیر میرے خواب کی
پھر بھی وہ چاہت کے دعویدار ہیں یہ سوچ لو
کر سکے گا کون میرے درد کا درماں کبھی
میرے آ نسو ہی مرے غمخوار ہیں یہ سوچ لو
سامنے آجاۓ گا بویا ہے جو کچھ آپ نے
راستے اب تو سبھی ہموار ہیں یہ سوچ لو
جرم کویٔ شب کی چاد ر میں نہ عذراؔ چھپ سکا
میرے قاتل بھی پسِ دیوار ہیں یہ سوچ لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







