جب تم روٹھ جاتے ہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا
پھر میرا دل کہیں نہیں لگتا
پھر کوئی بھی بات
مجھے ہسا نہیں سکتی
اس ُجدائی سے بھڑ کر
کوئی بھی بات مجھے ُرلا نہیں سکتی
میں یادوں کی دنیا میں
کہیں کھوں جاتی ہوں
میں یہاں رہتی ضرور ہوں
لیکن تم میں گم ہو جاتی ہوں
پھر مجھے کوئی شخص
بھی اچھا نہیں لگتا
اپنی دعاوں میں
کوئی اثر نہیں لگتا
وصال کی لمحوں جیسا
دل میں کوئی شجر نہیں لگتا
کوئی ستارہ کوئی آفتاب
پھر دل میں روشنی نہیں کرتا
رات کے تنہا لمحوں میں
پھر کوئی ارمان دستک نہیں کرتا
جسم تو جیسے بےجان ہو جاتا ہے
پھر میرا وجود کوئی کام نہیں کرتا
میری سانسیس برف کی
طرح جم سی جاتی ہیں
میری دھڑکنوں میں
آگ سی لگ جاتی ہے
میری آنکھوں سے
آنسوؤں کی صورت
اک دھواں سا نکلتا ہے
پھر میرا ناداں دل محبت سے ڈرتا ہے
جب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






