جب تم روٹھ جاتے ہو

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

جب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا
پھر میرا دل کہیں نہیں لگتا
پھر کوئی بھی بات
مجھے ہسا نہیں سکتی
اس ُجدائی سے بھڑ کر
کوئی بھی بات مجھے ُرلا نہیں سکتی
میں یادوں کی دنیا میں
کہیں کھوں جاتی ہوں
میں یہاں رہتی ضرور ہوں
لیکن تم میں گم ہو جاتی ہوں
پھر مجھے کوئی شخص
بھی اچھا نہیں لگتا
اپنی دعاوں میں
کوئی اثر نہیں لگتا
وصال کی لمحوں جیسا
دل میں کوئی شجر نہیں لگتا
کوئی ستارہ کوئی آفتاب
پھر دل میں روشنی نہیں کرتا
رات کے تنہا لمحوں میں
پھر کوئی ارمان دستک نہیں کرتا
جسم تو جیسے بےجان ہو جاتا ہے
پھر میرا وجود کوئی کام نہیں کرتا
میری سانسیس برف کی
طرح جم سی جاتی ہیں
میری دھڑکنوں میں
آگ سی لگ جاتی ہے
میری آنکھوں سے
آنسوؤں کی صورت
اک دھواں سا نکلتا ہے
پھر میرا ناداں دل محبت سے ڈرتا ہے
جب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا

Rate it:
Views: 882
21 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL