جب تک نہ ہو کچھ خاص چاہا نہیں کرتے
Poet: UA By: UA, Lahoreجب تک نہ ہو کچھ خاص چاہا نہیں کرتے
جب تک نہ بڑھے چاہ ہم چاہا نہیں کرتے
یوں تو بہت کچھ ہے جہاں میں لائق چاہت
لیکن ہر ایک کو ٹوٹ کے چاہا نہیں کرتے
جیسے تمہیں ٹوٹ کے چاہتے ہیں ہمنوا
ہم اپنے آپ کو بھی یوں چاہا نہیں کرتے
رخسار و خط و خال، سراپا و ادائیں
اوصاف ظاہری کو ہی چاہا نہیں کرتے
جب تک نہ ہوں جلوہ نما اوصاف باطنی
ہم چاند ستاروں کو بھی چاہا نہیں کرتے
چاہت کے بدلے چاہنا بھی ٹھیک ہے مگر
نہ مل سکے چاہت تو کیا چاہا نہیں کرتے۔؟
جس میں ہو شامل غرض وہ چاہت نہیں ہوتی
چاہیں انھیں جو آپ کو چاہا نہیں کرتے
بے لوث محبت کا تقاضہ تو یہ بھی ہے
جو تم کو چاہے بس اسے چاہا نہیں کرتے
عظمٰی ہماری فطرت ایسی عجیب ہے کہ
جو ہم کو چاہے ہم اسے چاہا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






