جب سے آنکھوں میں اُتاری آنکھیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیجب سے آنکھوں میں اُتاری آنکھیں
تب سے سوئ نا بےچاری آنکھیں
کیسے ختم ہو گی یہ لالی ان سے
رتجگوں کی جو ہیں ماری آنکھیں
مُجھ کو بھاتی نہیں آنکھیں اپنی
جب سے دیکھی ہی تُمہاری آنکھیں
اپنی آنکھوں سے مُحبت کرنا
یاد آئیں جو ہماری آنکھیں
کچھ تو دُشمن ہیں مُحبت کی بھی
پیار کرتی نہیں ساری آنکھیں
اوجھل اک پل نا ہوں نظروں سے آپ
ترس جاتی ہیں ہماری آنکھیں
ہارے عاشق کی صدا ہے باقرؔ
مولٰی دکھلاۓ نا پیاری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






