جب لبوں نے ترا سوال لیا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالجب لبوں نے ترا سوال لیا
پورے عالم کا سر وبال لیا
کیسی ظالم تھی وہ قتالہ بھی
جسم میں جاں تھی دِل نکال لیا
کھاتا تھا ٹھوکریں جو خلوت کی
اب اُسے یاد نے سنبھال لیا
یہ بھی کوئی کمال تھا اُس کا
چھین مجھ سے مرا کمال لیا
سو برس روئیں بھی تم کم نا ہو
ایسا کچھ سینے پہ ملال لیا
ہم تجھے سمجھے جاں نثار اپنا
تُو نے بھی ہم کو اپنی ڈھال لیا
خُوش نصیبی نہ لوٹ کر آئی
اپنے سر جب سے اُس کا بال لیا
ہُوں میں وہ بد نصبیب کے جس نے
خواب بیچے خراب حال لیا
کہتے ہیں لوح اور قلم جس کو
ہم نے قسمت میں وہ بھی لال لیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






