پھر سے وہ یاد آ گئی ہے کیا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالپھر سے وہ یاد آ گئی ہے کیا
کوئی اُمید دلا گئی ہے کیا
گھر کیوں اتنا سجا ہوا ہے آج
وہ محلّے میں آ گئی ہے کیا
دل تجھے ہوش کیوں نہیں آتا
بے دلی سی بجھا گئی ہے کیا
اے مری جاں، کہاں چلی ہیں آپ
ابھی سے نیند آ گئی ہے کیا
اے مرے خواب تو کیوں ٹوٹ گیا
صبح کی باری آ گئی ہے کیا
شبِ فُرقت بھی سو رہی ہو تم
خُوشی بستر پہ ڈھا گئی ہے کیا
رونی صورت سی کیوں بنائی ہے
یاد اُس کی چبا گئی ہے کیا
اتنے خُوش خُوش کیوں دِکھ رہے ہو جنید
پھر نئی کوئی بھا گئی ہے کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






