عشق کو ایسا با ہنر دیکھا
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba, Hyderabadعشق کو ایسا با ہنر دیکھا
آگ میں جاتا بے خطر دیکھا
کب جہاں میں اِدھر اُدھر دیکھا
جب بھی دیکھا ہے تیرا در دیکھا
بن پیے مجھ کو ہو گیا ہے نشہ
تیری نظروں کا یہ اثر دیکھا
ایک پل کے لیے بھلا نہ سکا
میں نے تجھ کو ہے بھول کر دیکھا
ظلم ظالم کا بڑھ گیا جس دم
ہوتا بزدل کو بھی نڈر دیکھا
فکرِ عقبیٰ نہیں کسی کو بھی
فکرِ دنیا میں ہر بشر دیکھا
داد ملنے لگی ہے یاسؔر کو
میں نے محنت کا یہ ثمر دیکھا ۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







