جب کبھی ان سے ملاقات ہو جاتی ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamجب کبھی ان سے ملاقات ہو جاتی ہے
وہ زندگی کی یادگار ساعت ہوجاتی ہے
دنیا میں جن کا کوئی ہمدم نہیں ہوتا
ان کی بھی گزر اوقات ہو جاتی ہے
کبھی تو کوئی حسرت پوری نہیں ہوتی
کئ بار خوشیوں کی بہتات ہوجاتی ہے
انسان بڑے ارمان لے کر دنیا میں آتے ہیں
مگرہماری زندگی نذر حالات ہو جاتی ہے
شب بھر ان کہ خیالوں میں کھویارہتاہوں
پتہ نہیں چلتا اور ختم رات ہو جاتی ہے
جب ان کہ حسن و جمال پہ نظرپڑتی ہے
مجھے اپنے آپ سے رقابت ہو جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








