کبھی ہم نوا کبھی اجنبی اسی حال میں رہی زندگی
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiکبھی ہم نوا کبھی اجنبی اسی حال میں رہی زندگی
کبھی مل گئی کبھی کھو گئی اسی حال میں رہی زندگی
یہ ہی کل مرا یہ ہی آج ہے کبھی میں جدا کبھی وہ جدا
کبھی میں خفا کبھی وہ لڑی اسی حال میں رہی زندگی
تری بندگی میں جیا مگر مری بندگی بھی کیا ہوئی ؟؟؟
تری ذات مجھ پہ نہاں رہی اسی حال میں رہی زندگی
کبھی تاج پر کبھی پا تلے رہی بےکلی میں گھڑی گھڑی
اسی حال میں رہی زندگی اسی حال میں رہی زندگی
وہ جو قوم تھی کبھی اک صدا یونہی ٹکڑیوں میں وہ بٹ گئی
کبھی یا خدا کبھی یا نبی اسی حال میں رہی زندگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






