جب کبھی درد کے ماروں کو بھلا سکتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجب کبھی درد کے ماروں کو بھلا سکتے ہیں
زیست کیوں تیرے پیاروں کو ملا سکتے ہیں
کا شیوا ہے جو گلشن سے وفائیں کرنا
جاتے جاتے بھی بہاروں کو اڑا سکتے ہیں
شمع جلتی ہے کسی اور کے غم میں لیکن
اس کے پہلو میں ہزاروں کو جلا سکتے ہیں
کچھ تو ان خاک نشینوں پہ کرو کرم میاں
کیوں یہ ان خاک کے تاروں کو مچا سکتے ہیں
جو بھی تہذیب و تمدن کی یہاں بات کرے
اس کی آنکھوں کے اشاروں کو بتا سکتے ہیں
جب بھی اترا ہے یہ اشکوں کا سمندر وشمہ
چشم دریا کے کناروں کو لگا سکتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






