یہ الگ بات کہ تجھ تک نہیں پہنچی لیکن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااس طرح خود کو محبت میں بھلا سکتے ہیں
نام لکھتی ہوں ترا لکھ کے مٹا سکتے ہیں
نام لیتے نہیں رکنے کا یہ آنسو میرے
تب ترے نام کی اک بزم سجا سکتے ہیں
یہ الگ بات کہ تجھ تک نہیں پہنچی لیکن
میں ہر اک بار تجھے دل سے لگا سکتے ہیں
بس اسی سوچ میں بیٹھی ہوں کہ تو آئے گا
روز دہلیز پہ پلکیں میں بچھا سکتے ہیں
فلسفہ کیا ہے محبت کا یہ جانا جب سے
تب سے پتھر کو بھی میں ہیرا بنا سکتے ہیں
دل کی چوکھٹ ہوئی تقسیم دریچوں میں کئی
ہائے چاہت تو بہت اپنا بنا سکتے ہیں
پوچھتے رہتے ہیں مجھ سے سبھی اربابِ سخن
کس طرح غم کو تبسم میں چھپا سکتے ہیں
جب سناتی ہے سرِ بزم کوئی وشمہ غزل
در حقیقت اسے اس شام ہلا سکتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






