جدا ہوں تم سے میری زندگی پریشاں ہے (دوگانا)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جدا ہوں تم سے مری زندگی پریشاں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے

لپٹ کے تم سے میں رو لوں قریب آ جاؤ
ذرا سا چین ہو دل کو نصیب آ جاؤ

تمھاری ہو نہ سکی رو رہی ہوں میرے صنم
رہے گا ساتھ مرے عمر بھر یہی اک غم

بھلا کے تم کو کہاں مجھ کو جینا آ ساں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے

لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔
بچھڑ کے تم سے مری زندگی پریشاں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے

خبر نہ تھی کہ مرے خواب ٹوٹ جائیں گے
کبھی یہ وقت بھی آئے گا مل نہ پائیں گے

اندھیری رات کے آنگن میں کتنی وحشت ہے
میں پی رہا ہوں کہ پینا مری ضرورت ہے

یہ جام ہی تو مرے درد و غم کا درماں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے

لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدا ہوں تم سے مری زندگی پریشاں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے


لڑکا
۔۔۔۔۔۔
بچھڑ کے تم سے مری زندگی پریشاں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے


 

Rate it:
Views: 1646
02 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL