جذبہ نگاہِ عشق کا بس ہو بڑھانے کا

Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, India

جذبہ نگاہِ عشق کا بس ہو بڑھانے کا
نا آشنائے درد کو بسمل بنانے کا

احساس ہو گیا ہے ابھی دل کے لگنے کا
ہر لمحہ چوٹ کھانے تو دل ٹوٹ جانے کا

دل سے ملا کے دل کو نئی راہ ہم نے دی
آساں نہیں ہے کام تو دل کو ملانے کا

ہر حال میں ہماری تو کوشش یہی رہی
ہر بے وفا کو اب تو وفا ہی سکھانے کا

ایسی نگاہ ہو بھی کہ بدلے ہوا کا رخ
ایسا بھی ذوق ہوجائے اب تو زمانے کا

کب تک چلے گی جھوٹ کی کشتی سنبھل جاؤ
بس حق کا اک تھپیڑا ہے کافی ڈبانے کا

کیوں مایوسی ہی چھائی ہے ہر ایک پر یاروں
اسلاف کا نمونہ ہے عزت بچانے کا

حسرت یہ اثر کی ہے کہ الفت بڑھی رہے
اس کے لئے مشن بھی ہو نفرت مٹانے کا

Rate it:
Views: 345
04 Oct, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL