ہنر پر رکھ

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

خُود کو آرام سے تُو گھر پر رکھ
اور پَگ عورتوں کے سر پر رکھ

دوستوں نے تو مِہربانیاں کِیں
داغ تُو بھی دِل و جِگر پر رکھ

میں نے قرضہ دیا ہے، جُرم کِیا؟
اور اب تُو اگر مگر پر رکھ

تُو وڈیرے کے گھر کا آدمی ہے
فتح اپنی کو میرے ڈر پر رکھ

منزلیں خُود سِمٹتی جائیں گی
بس توجہ فقط سفر پر رکھ

رِزق اللہ کی طرف سے ہے
پِھر بھروسہ ہے جو ہُنر پر رکھ

کیوں خطا وہ تِری مُعاف کرے
اب تو دستار اُس کے در پر رکھ

سب کے حِصّے میں رکھ تو رات کا دُکھ
اور نظریں مگر سحَر پر رکھ

شاعری کو مِلا دوام آخِر
کان حسرت اِسی خبر پر رکھ

Rate it:
Views: 284
06 Oct, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL