سمندر میں اترتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے

Poet: سید بدیع الرحمان By: سید بدیع الرحمان, Skardu

سمندر میں اترتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے
اندھیروں میں بھٹکتا ہوں ،تو تنہائی ستاتی ہے

خموشی سے گزرتی ہیں یہ شامیں اور یہ راتیں
میں خود سے بات کرتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے

تمہاری یاد کے جگنو، اندھیروں میں چمکتے ہیں
مگر جب پاس آتا ہوں، تو تنہائی ستاتی ہے

کوئی راہی، کوئی ہمدم، نہ کوئی ہمسفر میرا
مسافت جب بڑھاتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے

ہر اک شے سے جدا ہوں، خود سے بھی خفا ہوں میں
خود کو آئینہ دکھاتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے

بدیع ،دل کے اندر شور ہے، پھر بھی خموشی ہے
میں لفظوں کو بناتا ہوں، تو تنہائی ستاتی ہے

بدیع، دل کے زخموں کو چھپاؤں کس طرح آخر؟
کہ قصے جب سناتا ہوں ، تو تنہائی ستاتی ہے
 

Rate it:
Views: 469
10 Dec, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL