جس سمت میں نے آواز دی
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreجس سمت میں نے آواز دی، اس سمت تو سنا ہے ہوا ہی نہیں
سماعت تو ان کی کمال کی ہے، پر اپنی تو کوئی صدا ہی نہیں
کیا کہوں کیسے بچھڑ گیا تھا، سر راہ ہی جو میں بھٹک گیا تھا
میرے ساتھ جو چلے تھے سب راہزن، مجھے رہبر کوئی ملا ہی نہیں
میں ناکام ہو کے جو مایوس ہوا، بے سبب نہیں وجہ بھی ہے
جس پھول کی خاطر عمر لٹا دی، وہ پھول کبھی پھر کھلا ہی نہیں
میں نے تاریک غار میں جو سورج کو دیکھا، ملا حکم کہ یہ غار چھوڑو
مجھے سزا بھی ملی میرے جرم کے مطابق، یہ سزا تو کوئی سزا ہی نہیں
میرا دل بھی ہے میرے گھر کی مانند، جسے مکیں نے چھوڑا تو پھر نہ لوٹا
ویراں ہوا یوں تیرے جانے کے بعد، کہ کوئی اس میں پھر بسا ہی نہیں
میں عجیب دائرے میں ہوں محو سفر، کہ فاصلہ نہ کٹے بس چلتا ہی رہوں
کس کے قدموں کے نشان دیکھوں، یہاں سے کبھی کوئی گزرا ہی نہیں
سنا تھا وقت لگا دیتا ہے مرہم، اس امید پہ وقت گزارا ہے بہت
اک زخم لگا تھا جو برسوں پہلے، وہ زخم کبھی پھر بھرا ہی نہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






