جس طرح درختوں کا سائباں نہیں جاتا
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: داد بلوچ, Dera Ghazi Khan Fort Munroجس طرح درختوں کا سائباں نہیں جاتا
جذبہ محبت ِ بھی رائیگاں نہیں جاتا
ہر قدم قیامت کے درد سہنے پڑتے ہیں
طالبِ محبت کا امتحاں نہیں جاتا
دن گزر تو جاتے ہیں غم کی دھوپ چھاؤں کے
سر سے بد نصیبی کا آسماں نہیں جاتا
زخم بھر تو جائیں گے وقت کے گزرنے پر
عشق کا جو گھاؤ ہے جانِ جاں نہیں جاتا
آسماں کی پلکیں بھی اس سے بھیگ جاتی ہیں
دادؔ رات دن رونا رائیگاں نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






