کبھی جو ذکر ھو تیرا، مرے مسکان آ جائے۔
Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddahکبھی جو ذکر ھو تیرا، مرے مسکان آ جائے
مچلنے ھم لگیں دل میں کوئی طوفان آ جائے
بھنور میں عشق کی کشتی، پھنسی تم ھی نکالو جی
در ے دل کھول کے دیکھو، کوئی مہمان آ جائے
تری تصویر دل میں ھے، مگر تم دور ھو مجھ سے
اگر انجان رھنا ھے، تو پھر انجان آ جائے
ترا دیدار خوابوں میں، کیا کرتے ھیں کیا کہنے
بڑا ھی خوبصورت ھے، مرا خوبان آ جائے
کبھی مہتاب کی مانند، کبھی کھلنا گلابوں سا
چمن دل کا سجا دیجے، مرا ذیشان آ جائے
کبھی حوروں کی خواہش میں، نہیں سجدے کیے اتنے
مگر خواہش فقط اتنی، وھی انسان آ جائے
خدارا چھوڑ دو ضد کو، نہ تڑپاو دل ے بسمل
ملن کا معاملہ کر لو، مرا ارمان آ جائے
حسیں بیٹھے ھیں راھوں میں، اگر پھسلے نہ پھر کہنا
محبت منتظر گر ھو، دل ے نادان آ جائے
جواب آیا نہ تم آئے، مگر اک آس باقی ھے
کہ سیفی منتظر شائد، بلا عنوان آ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






