اک حشر کا تھا شور شرابا اسے کہنا

Poet: آصف By: Asif Ali, Karachi

ہے دِل میں وہ موجود ہَمارا اُسے کہنا
واحِد میرے جینے کا سَہارا اُسے کہنا

آواز تھی دِل کی اُسے دَھڑکَن نہ کَہو تم
اک حشر کا تھا شور شرابا اُسے کہنا

جاں میری نِکلنے میں بھی آسانی بنے گی
جو روح نِکالے وہ فَرِشتہ اُسے کہنا

جیون تو سَمندر ہے جو بِپھرا ہے سدا سے
پاکر ملے راحت وہ کِنارہ اسے کہنا

دیکھا رُخِ جاناں تو ہوا میں ہوں توانا
بس واسطے میرے ہی مسیحا اُسے کہنا

جب نین بَہادے جو لہو سارا جگر کا
مت نین کہو درد کا پیالہ اُسے کہنا

جس راہ سے گزرا ہوں جلا ہوں میں ہمیشہ
رستہ نہ کہو آگ کا دریا اسے کہنا

برباد ہوا ہے دل_ مضطر میرا جب سے
دل اس کو نہ کہنا ہاں جوالا اسے کہنا

جو جان کو اپنی کرے تجھ پہ نچھاور
اپنا اُسے ہی کہنا جیالا اُسے کہنا

ہے مشورہ یہ اہل ِقلم کو میرا آصف
جو لفظ سکھا دے تجھے آقا اُسے کہنا

Rate it:
Views: 498
12 Sep, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL