جسے اپنا بنانے کی خواہش تھی
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiمحبت اب بھی اسکی ہے وہی پائندہ پائندہ
نگاہیں خیرہ کرتا ہے وہی چہرہء تا بندہ
محبت جرم ہے گر تو مجھے اقرار ہے اسکا
کرونگا ارتکاب اس جرم کا آئندہ آئندہ
میں اس کو کھو کے اپنے آپ سے ناراض رہتا ہوں
ہر اک لمحہ گزرتا ہے میرا شرمندہ شرمندہ
وہ مل جاتی اگر مجھ کو میری قسمت بدل جاتی
میں اپنے آپ کو کہتا یہاں فرخندہ فرخندہ
میں مرجاؤں تو میری قبر کے کتبے پہ لکھ دینا
وفاء کے دیس کا مدفون ہے باشندہ باشندہ
میرے ہونٹوں پہ اسکے نام کی تکرار ہے اشہر
میرا دل اب بھی کہتا ہے فقط رخشندہ رخشندہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






