وہ کون ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکیا بتائیں تمہیں وہ کون ہے
وہ جو ہم سے ملا وہ کون ہے
جس نے تنہائی کو اجالا ہے
جس نے تنہائی سے نکالا ہے
روشنی، نور ہے اجالا ہے
چاند ہے چاندنی کا ہالہ ہے
جس نے انداز ہی بدل ڈالے
میرے دن رات ہی بدل ڈالے
جو میری سوچ کا محور نکلا
جو میری زیست کا حاصل نکلا
کون ہے جس کیلئے راتوں میں
جاگ کر راتیں کٹی باتوں میں
کون ہے جس نے سونے جیون میں
رنگ بکھرائے دل کے آنگن میں
کون ہے جو میرے تصور میں
کون ہے جو میرے تفکر میں
ایک تعبیر بن کے آیا ہے
خوب تحریر بن کے آیا ہے
میری تصویر بن کے آیا ہے
دل کی جاگیر بن کے آیا ہے
میری تقدیر بن کے آیا ہے
جو مجھے مسکراہٹیں دے کر
جو مجھے میری چاہتیں دے کر
میری دنیا کو اجالے دے کر
ڈوبتی ناؤ کو سنبھالے دے کر
مجھ کو مجھ سے چرا گیا ہے کون
مجھ کو اپنا بنا گیا ہے کون
میرا جیون سجا گیا ہے کون
مجھ کو جینا سییکھا گیا ہے کون
کیا بتائیں تمہیں وہ کون ہے
وہ جو ہم سے ملا وہ کون ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






