جلتی ہوں شمع کی طرح ہر شام عشق میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاجلتی ہوں شمع کی طرح ہر شام عشق میں
ہو جائے میرا بھی تو زرا نام عشق میں
"دامن کو رکھ سنبھال کے ناکام عشق میں "
پینا پڑے گا زہر کا بھی جام عشق میں
چلنا ہے میرے ساتھ تو کشتی ڈبو کے آ
تنہا نہ چل سکے گا تو دو گام عشق میں
باغ و بہار وقت کے ریلے میں بہہ گئے
سوچا کہاں تھا ہوگا یوں انجام عشق میں
وہ مصلحت کے ہاتھ میں قربان ہوگئے
جو بک گئے تھے دیکھئے بے دام عشق میں
وشمہ تمہارے نام کی ہو خیر ،کیا کروں
جو ہوگیا سو ہو گیا بد نام عشق میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






