گلوں کی کہانی ان کی زبانی
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonوہ شام سہانی تھی پھولوں پہ چھائ جوانی تھی
ہوا جھوم رہی تھی پھولوں کے منہ چُوم رہی تھی
بھنورے کی تڑپ میں چُھپی خوشی کی راگنی تھی
کلیوں نے دیکھے نظارے گلوں سے پوچھ بیٹھیں انکی کہانی
پھول ہنستے ہنستے چُپ ہوگۓ نہ جانے کہاں کُھو گۓ
پھر بولے اے کومل کلی تو کھلنے کے لیۓ ہی بنی
شوحیاں یہ ہوا کی سنگ ہوا کے پھولوں کا جھولنا
پھولوں پہ سجے شبنمی موتیوں کی برسات سہانی
گل گوں یہ لالہ زار گل رنگ پھولوں کےہی دم سے
بھنورے کی گل گشت تتلیوں کی اڑان سے رونق چمن کی
گل بانگ سے بکھرے فضا میں خوشبو کے حسیں زمزمے
ہر گل کی اپنے برگد سے چمن تلک کی یہ رنگین کہانی
وقت کی دھول رنگت چرالے ہوا خوشبو اڑالے
چار دن کی چاندنی ہر پھول کی ختم ہوتی ہے کہانی
کومل کلی کانپ گئ پھر خوف سے سمٹ گئ
پھر بولی میں یوں ہی بھلی ایسے کھلنے سے باز آئ
پھول ہنس دیا اے کومل کلی توکھلنے کے لیۓ ہی بنی
تیرے ہی دم سے مہکے یہ چمن ہے تو بہار چمن کی
کھلےتوبابل کےچمن میں گل شگفتہ سے پھول بن کے
مہکے تیرے بابل کا آنگن خوشبو سے تیری
یہ بھاگ تیرے توسج کے رہے گُلشن میں
رہے تو بن کے سجنی اپنے پیا چمن کی
چمن کا دامن پھولوں کے رنگوں سے سجے
فطرت کے تقاضے یہی بندگی یہی زندگی
قدرت نے سونپے تجھے روپ سہانے
یہ رشتے یونہی تجھے نبھانے یہی تیری کہانی
کومل کلی مطمعین ہوی شاد ہوی اور بولی
قدرت نے رکھی میرے ہی دم سے زینت چمن کی
ملتی نہیں بار بار زندگی سوگزرے مجبت سےزندگی
رہے نہ رہے زندگی رہوں یاد بن کے اپنےچمن کی
آج مجھ سے کل تجھ سے ہوگی آباد یونہی زندگی
فطرت کی عبودیت اسی کی بندگی اسی کی طرزِ زندگی
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






