جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دئیے
Poet: Majrooh Sultanpuri By: Iram, Lahoreجلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دئیے
ڈھونڈ لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے
دل میں رکھ لینا اسے ہاتھوں سے یہ چھوٹے نہ کہیں
گیت نازک ہے میرا شیشے سے بھی ٹوٹے نہ کہیں
گنگناؤں گا یہی گیت میں تیرے لئے
جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دئیے
ڈھوند لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے
جب تلک نہ یہ تیرے رس کے بھرے ہونٹوں سے ملے
یوں ہی آوارہ پھرے گا یہ تیری زلفوں کے تلے
گائے جاؤں گا یہی گیت میں تیرے لئے
جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دئیے
ڈھونڈ لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئیے
نوٹ : اس ویب پر بہت اچھے اچھے گیت پڑھنے کو ملتے ہیں
سوچا آج میں بھی کوئی انتخاب پیش کر دوں۔امید ہے
مجروح سلطان پوری صاحب کا یہ گیت پڑھنے والوں کو پسند آئے گا
شکریہ
ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






